Showing posts with label Poetry. Show all posts
Showing posts with label Poetry. Show all posts
Friday, 5 April 2019
Poetry \\\ کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کے
کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کےآتی ھے جانِ من یہ قیامت کبھی کبھی
Poetry ||| اگر تُو مل نہیں سکتا تو کچھ تدبیر ایسی ہو
اگر تُو مل نہیں سکتا تو کچھ تدبیر ایسی ہو ،مری آنکھوں سے تُجھ کو عُمر بھر دیکھا کرے کوئی ۔
Poetry |||| خرید رہاتھا محبت کی چادر بازارِ عشق سے
خرید رہاتھا محبت کی چادر بازارِ عشق سے۔۔۔
ہجوم سے آواز آئی کفن بھی لیتے جاؤ اکثر یار بےوفا ہوتے ہیں ۔۔۔
نا چھیڑ قصہ محبت۔ بڑی لمبی کہانی ہے۔|||||Ghazal
نا چھیڑ قصہ محبت۔
بڑی لمبی کہانی ہے۔
میں زمانے سے نہیں ہارا۔
بس
کسی کی بات مانی ہے۔
تیرے نام جو مکتوب لکھے
لکھے خُوب اور خُوب لکھے
معطر خوشبوؤں میں بسائے
لفظ جان اور محبوب لکھے
سب نے پڑھے اشعار میرے
فقط تیرے نام منسوب لکھے
چُن چُن ہر لفظ ، مثلِ موتی
دل پسند اور مرغوب لکھے
جدائی کے عنوان سب ہی
سرِمژگاں نم مرطوب لکھے
ہجرِ یار ، دُکھ ، درد ، غم
جذبات سب ، مغلوب لکھے
دُعائیں جب ، جب مانگیں
تُم ، مُحبت ، مطلوب لکھے
دل و دھڑکن ، شب و روز
فراق میں ، مضروب لکھے
بے خودی میں اشعار میرے
جیسے کوئی مجذوب لکھے
لب جبیں رُخسار نین نشیلے
کرشماتی سب مشروب لکھے
کاش تو بھی ، کبھی مجھے
محبوب لکھے ، مطلوب لکھے
Ghazal ||| تیرا چپ رہنا میرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
غزل
تیرا چپ رہنا میرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آواذیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا
اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں
چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا
بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں
دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا
اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
بزم ۔ جاناں میں نشستیں نہیں دیکھی جاتی
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھائے اپنے
اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا __!!
Ghazal|آتے آتے، میرا نام سا ره گیا
غزل
آتے آتے، میرا نام سا ره گیا
اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا ره گیا
وه میرے سامنے ہی گیا اور میں
راستے کی طرح دیکهتا ره گیا
جهوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور میں تها کہ سچ بولتا ره گیا
آندهیوں کے ارادے تو اچھے نہ تهے
یہ دیا کیسے جلتا ہوا ره گیا
ان کی آنکهوں سے کیسے چهلکنے لگا
میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا ره گیا
ایسے بچهڑے سبهی رات کے موڑ پر
آخری ہمسفر راستہ ره گیا
سوچ کر آؤ کوئے تمنا ہے یہ
جان من جو یہاں ره گیا ره گیا






